یزید بن مہاجر
یہ شخص شہدائے کربلامیں سے ہے، نہایت شجاع اوربہادر تھا، اس نے اپنے جہاد
میں چالیس سے زیادہ ملاعین کو دارلبوارپہنچا اورپھر جام شہادت نوش کیا۔
میں چالیس سے زیادہ ملاعین کو دارلبوارپہنچا اورپھر جام شہادت نوش کیا۔
سردارانِ کوفہ کی ایک جماعت کے ساتھ بصرہ کی طرف بھاگ گیا تھا، مختارنے ان کے گھروںکومسمارکرادیا۔
اس ملعون نے امام مظلوم ؑ کی پیشانی کوپتھرسے زخمی کیاتھا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
جس طرح ضرغام کا معنی شیر ہے اسی طرح بنابر نقل مورّخین کے یہ شخص اسم بامسمّیٰ تھا، پیشہ شجاعت کا شیر صف شکن، شہسوار اور مشاہیر شیعان کوفہ میں سے تھا، حضرت مسلم کی بیعت میں داخل ہوا جب لوگوں نے غداری کی تو یہ شخص عمر بن سعد کی فوج میں شامل ہو…
اس حرامزادے نے امام مظلوم ؑ کے پہلوپرنیزہ ماراتھا۔
مسلم بن عوسجہ کا ایک فرزند تھا جس کا نام خلف لکھا گیا ہے، ’’ناسخ‘‘ سے منقول ہے کہ جب مسلم بن عوسجہ شہید ہوا تو اُس کا جواں سال فرزند (خلف) شیر غضبناک کی طرح میدان کی طرف بڑھا لیکن جب حضرت حسین ؑ نے دیکھا تو فرمایا اے جوان! تیرا باپ شہید ہو…