anwarulnajaf.com

Category: اصحاب الیمین | ashab ul yameen

  • سالم مولیٰ بنی المدینہ

    زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ بنی المدینہ جو قبیلہ قلب کی ایک شاخ تھے سالم ان کا غلام تھا اور انہوں نے اس کو آزاد کر دیا تھا، یہ شیعانِ کوفہ میں سے تھا جب حضرت مسلم کوفہ میں تشریف لائے تو یہ ان کی بیعت میں داخل ہوا جب حضرت…

  • سعد بن حارث

    ابوالحتوف کے بیان میں گزر چکا ہے کہ سعد بن حارث اور یہ دونوں بھائی خوارج میں سے تھے، عمر بن سعد کی فوج میں بھرتی ہو کر کربلا پہنچے، روزِ عاشور امام عالیمقام کے استغاثہ اور آل اطہار کی صدائے گریہ زاری سے متاثر ہو کر تائب ہوئے اور امام ؑ کی خدمت میں…

  • سعد مولیٰ عمرو بن خالد صیداوی

    یہ شخص عمرو بن خالد صیداوی کا آزاد کردہ غلام تھا۔۔ جب کوفہ میں قیس بن مسہر صیداوی نے امام ؑ پیغام پہنچایا تو یہ شخص اپنے آقا عمرو اور دیگر ہمراہیوں کے ہمراہ امام ؑ کے ساتھ جا ملا اور روز عاشور شہید ہوا۔

  • سعد بن بشر حضرمی

    ’’ناسخ التواریخ‘‘ سے اس کا شہدائے کربلا میں سے ہونا مذکوہ ہے۔۔ حالات کی تفصیل کا کوئی علم نہیں۔

  • سعد بن حارث صحابی مولیٰ امیرالمومنین ؑ

    ’’اصابہ‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص حضرت امیر ؑ کا غلام تھا کوفہ میں حضرت امیر ؑ کی طرف سے پولیس کا افسر مقرر تھا اور پھر آپ ؑ نے اس کو آذربائیجان کا والی مقرر کیا تھا، اس کو جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی حاصل تھا، حضرت امیر ؑ کے بعد…

  • سعد بن حنظلہ تمیمی

    ’’نفس المہموم و منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص امام حسین ؑ کے لشکر کے سربرآوردہ افراد میں سے تھا۔۔ روز عاشور مردانہ جہاد کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا لیکن اس کے مقتولین کی تعداد نہیں بیان کی گئی۔

  • سعید بن عبداللہ حنفی

    زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وار دہے اور قائم آل محمد نے اس کی خدمت کو نہایت دقیع الفاظ میں سراہا ہے الفاظ زیارت کا ترجمہ یہ ہے: میرا سلام ہو سعید بن عبداللہ حنفی پر جس کو امام حسین ؑ نے چلے جانے کی اجازت دی تھی لیکن اس نے جواب میں…

  • سلمان بن مضارب

    یہ زہیر بن قین کا چچازاد بھائی تھا۔۔۔ جس وقت وہ امام ؑ کی خدمت میں آیا تھا اس وقت سے یہ بھی امام ؑ کے ہمرکاب ہو گیا تھا اور روز عاشور درجہ رفیعہ شہادت پر فائز ہوا۔

  • سفیان بن مالک

    زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے اسکے علاوہ اسکے حالات کا کوئی علم نہیں۔

  • سلیمان بن سلیمان ازدی

    صرف زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔