anwarulnajaf.com

Mindblown: a blog about philosophy.

  • مجمع بن عبد اللہ عائذی

    یہ شخص حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھا اور اس کا باپ صحابی رسول تھا، یہ مجمع جنگ صفین میں شاہِ ولایت کے ہمرکاب تھا یہ اور اس کا بیٹا عائذ کوفہ میں مقیم تھے جب امام حسین ؑ کے سفیر قیس بن مسہّر صیداوی نے آکر خبر دی کہ امام عالیمقام ؑ…

  • محمد بن بشر حضرمی

    اس کے باپ بشر بن عمرو حضرمی کے تذکرے میں گزر چکا ہے کہ اس کو عین جنگ کے وقت اپنے بیٹے کی اسیری کی اطلاع دی گئی تھی تو اس نے نہایت جرأت سے کہا تھا کہ مجھے اس کا اجر خدا دے گا۔۔ گویا فرزند رسول کو نرغۂ اعدا میں چھوڑ کر میں…

  • محمد بن انس بن ابی دجانہ

    ’’ریاض الشہادہ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔

  • مسلم بن عوسجہ صحابی

    یہ بزرگ باتفاق شیعہ وسنی صحابہ رسول میں سے تھے اورحضرت امیرعلیہ السلام کی غلامی کا بھی ان کو شرف حاصل تھا، چنانچہ جنگ جمل صفین ونہروان میں آپؑ کے ہمرکاب تھے۔۔ عبادت گزار۔۔ شب بیداراورقاری قرآن تھے، نیر شجاعت میں بھی اپنی آپ نظیر تھے، ’’مہیج الاحزان‘‘ سے منقول ہے کہ انہوں نے کئی…

  • مسعود بن حجاج

    زیارت ناحیہ ورجبیہ میں ا س پر سلام وارد ہے۔۔ یہ شخص مشہور شیعیانِ علی ؑ میں سے تھا اپنے بیٹے عبدالرحمن کے ساتھ واردِ کربلاہوا اورحملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔

  • مسلم بن کثیر ازدی صحابی

    زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر اسلم بن کثیر ازدی کے نام سے سلام وارد ہے۔۔ لیکن کتب رجال اورصحائف تاریخ میں اس کا نام مسلم بن کثیر وارد ہے، لہذا غالب خیال یہ ہے کہ کاتب کی غلطی سے مسلم کی بجائے اسلم لکھا گیا ہو مروی ہے کہ جنگ جمل میں ایک تیراس…

  • مُسلم بن کناد

    زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔

  • مصعب بن یزید ریاحی

    یہ حُر کا بھائی ہے جب حُر امام علیہ السلام کی خدمت میں تائب ہو کر آیا او رپھر اذنِ جہاد لے کر میدان میں پلٹا تو اس کے رجزیہ اشعاراس کے بھائی مصعب نے سنے پس گھوڑا دوڑا کرحُر کے پاس پہنچا کوفیوں نے یہ سمجھا کہ بھائی سے لڑنے جارہاہے لیکن جب یہ…

  • منحج بن سہم

    یہ شخص حضرت سید الشہدأ کا غلام تھا زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پرسلام واردہے۔ ’’ربیع الابرار۔۔زمحشری‘‘ سے مروی ہے کہ حضرت امام حسین ؑنے نوفل بن حارث سے ایک کنیز خریدی تھی جس کا نام حُسنیہ تھا ااور آپ ؑ نے اس کی شادی سہم نامی ایک شخص سے کردی تھی اوراس سے منحج…

  • معلّٰی بن علی

    ابومخنف سے منقول ہے کہ یہ شخص جرأت وشجاعت میں یگانہ ٔدہرتھا میدان جنگ میں اس نے خوب دادشجاعت دی اور(۶۴) نام برآوردہ اشخاص کوتہِ تیغ کیا جب لشکراعدأ نے اس بیشہ شجاعت کے شیر کے مقابلہ میں بزدلی کا مظاہرہ کیا تو ازراہ مکروفریب ہرطرف سے تیرو تلوار ونیزہ وسنگ بارانی سے اس پرحملہ…

Got any book recommendations?