مالک بن عبد اللہ جابری
زیارت رجبیہ میںاس پر سلام وارد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہدائے کربلا
میں سے تھا۔
میں سے تھا۔
اُن صحابہ کا ذ کر جو بنی ہاشم سے نہ تھے اور میدانِ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے:
یہ ملعون حضرت عبداللہ بن مسلم کا قاتل تھا، امیر مختار نے عبداللہ بن کامل کو اس کی گرفتاری کیلئے روانہ کیا اس نے فرار کرنے کی ہر چند کوشش کی لیکن فائدہ مند ثابت نہ ہوئی، عبداللہ بن کامل کے ساتھی ننگی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو گرفتار کر…
حضرت سیدالشداؑء کے وہ انصار جوبنی ہاشم میں سے تھے اورکربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے:
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے لیکن ’’ناسخ‘‘ سے منقول زیاد بن مصاہر کندی ہے جس نے لشکر اعدا پر حملہ کر کے نو (۹)افراد کو فی النار کیا اور پھر شہید ہوا ۔۔۔ واللہ اعلم
بروایت ’’اعیان الشیعہ۔۔ نجاشی‘‘ اس کا شہدائے کربلا سے ہونا منقول ہے۔