مالک بن عبد اللہ جابری
میں سے تھا۔
اس نے بیان کیا کہ میں کربلا میں نیزہ ہاتھ میں لے کر جنگ کرتا رہا لیکن میں نے قتل کسی کو نہیں کیا، پس بحکم مختار نیزہ سے ہی اس کے جسم کو پارہ پارہ کردیا گیا۔
اس کانام یزید بن زیاد بن مہاجر ہے اور قبیلہ کندہ کا فردِ فرید ہے، شہسواری اور فن تیر اندازی میں اپنی آپ نظیر تھا اور اپنے دور کا عالم اور محدث تھا۔۔۔ علاوہ بریں نہایت شریف، مردِ میدان اور دلیر تھا۔ قبل اس کے کہ لڑائی کی نوبت حضرت سید الشہدأ تک پہنچے۔۔۔تلوار میان…
اس شخص کولایا گیا جس نے تازیانے مارے تھے اوراُمّ کلثوم و فاطمہ کے گوشوارے اُتارکرکانوں کوزخمی کیا تھا! مختار نے کہا توکوئی محرم تھا؟ پس آنکھیں نکلواکرہاتھ کاٹ کرتیل میں جلادیا۔
سردارانِ کوفہ کی ایک جماعت کے ساتھ بصرہ کی طرف بھاگ گیا تھا، مختارنے ان کے گھروںکومسمارکرادیا۔
اس حرامزادے نے امام مظلوم ؑ کے پہلوپرنیزہ ماراتھا۔
مختار کو اطلاع دی گئی کہ قادسیہ میں مالک بن نسر رہتا ہے جس نے امام حسین ؑ کے فرق اطہر پر تلوار ماری تھی؟ نیزآپ ؑ کی خون آلود ٹوپی بھی اسی نے لے لی تھی! اور وہاں امام حسین ؑ کے قاتلین میں سے دواور شخص اس کے ہمراہ رہتے تھے ایک کا…