یحییٰ بن حسن بن علی ؑ
ہے تفصیل معلوم نہیں۔
یہ شخص حضرت علی ؑ کا خاص شیعہ تھا، ایک دفعہ معاویہ کے پاس گیا تو معاویہ نے دیکھتے ہی کہا: تو شریک ہے حالانکہ اللہ کا کوئی شریک نہیں اورتیراباپ اعور (یک چشم) تھا حالانکہ آنکھوں والااعور (ایک چشم ) سے اچھا ہوا کرتاہے اورنیز توبد صورت ہے اورخوبصورت بد صورت سے بہتر ہے؟…
’’ناسخ التواریخ‘‘ سے اس کا شہدائے کربلا میں سے ہونا مذکوہ ہے۔۔ حالات کی تفصیل کا کوئی علم نہیں۔
مختار نے پوچھا کہ تونے فضہ کوتازیانہ مارکراس کا بازوتوڑاتھا؟ پس ہزار تازیانہ ماراگیا۔۔ ہاتھ کاٹے گئے وہ فی النار ہوا۔
’’مخزن البکأ ‘‘ میں ابن طائووس سے مروی ہے کہ اب قوم اشقیا ٔ میں سے کوئی شخص قریب آنے کی ہمت نہ کرتا تھا تاکہ حسین ؑکا خون گردن پرنہ آئے، ہاں ایک سنگدل نے جرأت کی اورعرش خداکوہلانے کیلئے آگے بڑھا اس شخص کا نام مالک بن بسرتھا، جوقبیلہ کندہ کا فرد تھا،…
یہ شخص حضرت امیرالمومنین ؑکے شیعوں میں سے تھا اورخود مسلم کی بیعت کرنے کے بعد لوگوں سے امیر مسلم کے لئے بیعت لیا کرتاتھا۔ جب ہانی گرفتارہوا اورابن زیاد نے اس پرتشددکیا تو اس وقت حضرت مسلم نے دارُالامارہ پرچڑھائی کی اورعباس بن جعدہ کو ایک چوتھائی فوج کا سالارمقررکیا پھر واقعات بدل گئے…
زیارت ناحیہ میں عبد اللہ رضیع پر سلام وارد ہے لیکن اس میں اختلاف ہے کہ آیاعبداللہ رضیع وہی شہزادہ علی اصغر ؑ ہے؟ یا وہ الگ الگ ہیں؟ ذخیرۃ الدارین سے منقول ہے کہ یہ عبداللہ رضیع اِسی دن یعنی روز عاشور پیدا ہوا اورامام حسین ؑ نے اس کا نام عبداللہ رکھا اس…