یحییٰ بن حسن بن علی ؑ
ہے تفصیل معلوم نہیں۔
زیارت رجبیہ اور زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے یہ شخص انصاری قبیلہ خزرج سے ہے، اس کے دو بھائی ایک نضربن عجلان اور دوسرا نعمان بن عجلا ن حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھے جنہوں نے جنگ صفین میں خوب داد شجاعت دی، یہ تینوں بھائی نامی گرامی بہادر…
یہ شخص شہدائے کربلامیں سے ہے، نہایت شجاع اوربہادر تھا، اس نے اپنے جہاد میں چالیس سے زیادہ ملاعین کو دارلبوارپہنچا اورپھر جام شہادت نوش کیا۔
جب لڑائی کا غبارمدھم ہوا اورجنگ وجدال کی آتش فروہوئی توابراہیم نے فرمایا میں نے نہرخازرکے کنارے ایک ایسے شخص کوقتل کیا ہے جوتنہاجھنڈے کے نیچے تھا اوراس سے خوشبوکستوری کی آرہی تھی اورغالباً ابن زیادہی ہوگا؟ چنانچہ جب تلاش کیا گیا تو وہ واقعی عبیداللہ بن زیادہی نکلا پس ابراہیم سجدہ شکر میں گرگیا…
’’مخزن البکا‘‘ میں واقعہ شہادت اس طرح مرقوم ہے کہ بروایت ’’منتخب‘‘ خولی نے امام مظلوم ؑ کی پشت پرزور سے ایک نیزہ کا وار کیا کہ بروایت ابومخنف امام مظلوم ؑ تین گھنٹے منہ کے بل زمین پرپڑے رہے فَبَقِیَ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ مَکْبُوْبًا عَلَی الْاَرْضِ امام مظلوم ؑ آخری وقت تک استغاثہ کرتے رہے…
ا س ملعون نے جناب زینب علیا کی پشت پرتازیانے مارے تھے کہ جسم پر سیاہ نشان ہوگئے، مختار نے اس سے دریافت کیا تو اس نے انکار کردیا، پس اس کو ننگا کرکے ایک ہزارتازیانہ ماراگیا، پس اس کے شانے میں میخیں ٹھونکی گئیں کہ وہ اس کے سینے سے نکل گئیں اوروہ فی…
جناب رسالتمآبؐ جب غار میں تھے تو قارب کے باپ عبداللہ کا وہاں سے گزر ہوا آپ ؑ نے فرمایا اے ابن اریقط اگر میں تیرے اوپر اعتماد کروں اور اپنی جان تیرے حوالہ کروں تو کیا تو میری حفاظت کرے گا؟ اور خفیہ راستہ سے مجھے مدینہ پہنچائے گا؟ عبداللہ نے جواب دیا کہ…