علی بن مظاہر اسدی
آور ہوا اورستّر ملاعین کوتہ ِتیغ کرکے شہید ہوا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اُمّ البنین کا لخت جگر حضرت ابوالفضل عباس کا یک مادری بھائی تھا، واقعہ کربلا میں اس کی عمر ۳۱ برس تھی، عثمان بن مظعون صحابی رسول کی وفات کے بعد امیر ؑ نے اپنے فرزند کا نام عثمان انہی کی یاد میں رکھا تھا؟ مروی ہے…
زیارت رجبیہ میںاس پر سلام وارد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہدائے کربلا میں سے تھا۔
شیعانِ بصرہ میں سے تھا روز عاشور جہاد کرکے شہید ہوا، کہتے ہیں کہ حجاج سعدی کے ہمراہ یہ بھی بصرہ سے آیا تھا، زیارت ناحیہ مقدسہ اس پر سلام وارد ہے۔
فرمایا یَا زَیْنَبُ وَ یَا اُمّ کلثُوْمٍ وَ یَا سُکَیْنَۃُ وَ یَا فَاطِمَۃُ عَلَیْکُنَّ مِنِّی السَّلامُ وَاسْتَوْدِعکُن اے زینب۔۔ اے امّ کلثوم۔۔ اے سکینہ اوراے فاطمہ تم پر میرا سلام اورخداحافظ، بہنوں کو گلے لگایا اورشہزادیوں کوپیا رکیا اورسب کو تسلی دے کر روانہ ہوئے، لیکن وہ کیا تسلی تھی بلکہ یہ تسلی اضطرب کا…
ابومخنف سے منقول ہے کہ یہ شخص جرأت وشجاعت میں یگانہ ٔدہرتھا میدان جنگ میں اس نے خوب دادشجاعت دی اور(۶۴) نام برآوردہ اشخاص کوتہِ تیغ کیا جب لشکراعدأ نے اس بیشہ شجاعت کے شیر کے مقابلہ میں بزدلی کا مظاہرہ کیا تو ازراہ مکروفریب ہرطرف سے تیرو تلوار ونیزہ وسنگ بارانی سے اس پرحملہ…
یہ شخص مسلم بن کثیر کا غلام تھا کوفہ سے نصرت حسین ؑ کی خاطر کربلا میں آیا، روز عاشور جب لڑائی کی آگ گرم ہوئی تو اس کا آقا مسلم حملہ اولیٰ میں شہید ہو گیا اور یہ خود بعد از ظہر جنگ کر کے ایک کثیر جماعت کو فی النار کرنے کے بعد…