الزام تراشی اور عیب جوئی
اپنی دوکان کو چمکانے اور دوسروں کو زیر کرنے ، گرانے اور بد نام کرنے کے لئے
اپنی عیب پوشی اور دوسروں کی عیب جوئی کی جاتی ہے اپنے اندر نہ ہونے والی خوبی کو
خوبی ظاہر کیا جاتا ہے اور دوسروں کی واقعی خوبی چھپایا جاتا ہے بلکہ اپنی پاکبازی
کے بیان کے ساتھ ساتھ دوسروں پر الزام تراشی کو اپنی کامیابی کا زینہ سمجھا جاتا
ہے اور اچھے خاصے مقدس لوگ بعض اوقات اس ناپاک کیچڑ میں ملوث نظر آتے ہیں۔
اس بد صفت کے محرک بھی برائی کے چاروں اصول ہوا کرتے ہیں یعنی حسد، حرص، غضب
اور شہوت اور یہ صفت بد انسانوں کے تمام طبقات میں پائی جاتی ہے ایک دکاندار دوسرے
دکاندار پر الزام تراشی کرتا ہے اور اس کی عیب کوئی کرتا ہے تو وکیل وکیل پر،
کارخانہ دار کارخانہ دار پر ، مولوی مولوی
پر، ذاکر ذاکر پر ، بلکہ ہر اقتدار پسند دوسرے اقتدار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اس
پر الزامات عائد کرنا اور اس کے عیوب کی قبریں کھودنا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے
اور زندگی کے جملہ شعبہ جات خواہ ان کا
تعلق ساست ہو یا دیانت سے ہو اور ان کا ربط حکومت سے ہو یا عوام سے ہو ان میں ہر
حریف اپنے حریف سے میدان جیتنا اسی صفت بد کے ذریعے سے ضروری سمجھتا ہے اور یہی
عادت بد باہمی الفت و محبت کے لئے زہر
قاتل ہے اور بدظنی و باہمی فساد کی بنیاد ہے ۔ جو لوگ الزام تراشی اور عیب جوئی کو
گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور منبروں پر وعظ کرتے ہوئے نہیں تھکتے اپنی شہرت کو
بڑھانے اور مقبول عوام بننے کے لئے اپنے مد مقابل کے وقار کو گرانے کے لئے اسی ہی
ناپاک حربے کا سہارا لیتے ہیں حسد میں علماء کا حصہ اچھا خاصا ہے پس وہ نہایت مقدس
بن الزام تراشی و عیب جوئی کر کے داد و تحسین کے مستحق بن جائے ہیں اگر کوئی عالم
ان کی منشا کے خلاف ہو تو فوراً کہ دے دیتے ہیں کہ اس کو فلاں طرف سے ایڈ مل رہی
ہے اور شیخ احمد احسائی مرحوم اسی قسم کے حاسد علماء کی الزام تراشی کے ہی زخم
خوردہ ہیں جن کو آج تک سستی شہرت حاصل کرنے والوں نے معاف نہیں کیا اور جو آدمی یہ
کہہ دے کہ شیخ مرحوم نیک عالم دین تھے تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے کہ اس آدمی کو
خرید لیا گیا ہے (العیاذ باللہ )
Leave a Reply